ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل: تینگن گنڈی اور آلوی کوڈی میں ماہی گیروں کو ملی بڑی راحت ۔سمندری لہروں سے بچاو کے لئے دیوار کی تعمیر ہورہی ہے مکمل 

بھٹکل: تینگن گنڈی اور آلوی کوڈی میں ماہی گیروں کو ملی بڑی راحت ۔سمندری لہروں سے بچاو کے لئے دیوار کی تعمیر ہورہی ہے مکمل 

Sun, 04 Jul 2021 23:23:38    S.O. News Service

بھٹکل،4/جولائی (ایس او نیوز) بھٹکل تعلقہ کے آلوے کوڈی اور تنگن گنڈی میں سمندری لہروں سے بچاو کے لئے دیوار کی تعمیر کا کام دو مہینے کے اندر مکمل ہونے جارہا ہے جس کی وجہ سے یہاں کے ماہی گیر طبقہ کو بڑی راحت ملنے والی ہے ۔ 
    
دیوار کی تعمیر کا کام مکمل ہونے سے اب آلوے کوڈی اور تنگن گنڈی میں بھی بھٹکل ماہی گیری بندرگاہ کی طرح ماہی گیری کے لئے استعمال ہونے والی پرشین کشتیوں کو لنگر انداز کرنا آسان ہوگیا ہے۔ 
    
چونکہ آلوے کوڈی بندرگاہ میں اس سے پہلے کوڈا کچرا اور مٹی جمع ہونے کی وجہ سے صرف چھوٹی کشتیوں کے لئے ہی لنگر انداز ہونے کی سہولت دی اور پرشین کشتیوں کو وہاں کھڑا کرنا ممکن نہیں ہورہا تھا۔ اس لئے  ماہی گیر اپنی کشتیوں کے لنگر بھٹکل کی بندرگاہ پر ہی  ڈالنے پر مجبور تھے۔ اسی وجہ سے ماہی گیروں کی کوآپریٹیو سوسائٹی اور ٹرالر بوٹ یونین کی طرف سے آلوے کوڈی ، تنگن گنڈی بندرگاہوں کے پاس سمندری لہروں کو روکنے کے دیوار تعمیر کرنے کا مطالبہ ریاستی حکومت سے بار بار کیا جارہا تھا۔ اسی کے ساتھ کانگریسی لیڈر اور سابق رکن اسمبلی منکال وئیدیا نے اس ضمن میں مسلسل کوشش جاری رکھی تھی ۔ 2018 میں اُس وقت کی ریاستی حکومت نے اس منصوبہ کے لئے فنڈ جاری کیا تھا ۔ جس کے بعد تملناڈو کی ایک کمپنی کو کام کا ٹھیکہ دیا گیا مگر کام بہت سست رفتاری سے چلتا رہا ۔ اس کے بعد موجودہ رکن اسمبلی سنیل نائک نے اس منصوبے میں دلچسپی لی اور حکومت پر دباو بنا کر تیز رفتاری سے کام کے لئے فنڈ جاری کروایا۔ 
    
جملہ 86 کروڑ روپے کی لاگت والے اس منصوبے کے تحت آلوے کوڈی میں 760 میٹر اور تنگن گنڈی علاقہ میں 700 میٹر دیوار تعمیر کی جائے گی۔ جس کے بعد 150ماہی گیر کشتیوں کو یہاں پر لنگر انداز کرنے کی گنجائش رہے گی۔ اس کے علاوہ یہ علاقہ سیاحوں کی دلکشی کا سبب بھی بن جائے گا۔
    
ٹھیکیدار کمپنی کے سپروائزر مُتّھو نے بتایا کہ فی الحال تنگن گنڈی کے علاقے میں پوری طرح مکمل ہوگیا ہے جبکہ آلوے کوڈی علاقہ میں ابھی صرف 300 میٹر کا کام  باقی ہے جو دو مہینوں کے اندر پورا ہونے کی امید ہے ۔ اس کے بعد سمندر کی تہہ سے تین میٹر گہرائی تک کیچڑ اور مٹی نکال کر وہاں کشتیوں کو لنگرانداز کرنے کی سہولت فراہم کی جائے گی۔   


Share: